عید پر قربانی کی مخالفت اور پروپیگنڈا کے پیچھے کون ہے؟

کچھ روز قبل غریدہ فاروقی نے ایک ٹویٹ کیا جس میں اس نے لکھا کہ اگر ہو سکے تو کسی جانور کی زندگی بچالیں۔اپنی زندگی میں اس واقعہ (سنت ابراہیمی)اور خدا کے پیغام کے پیچھے فلسفہ کو اپنا لیں۔یہ دن گوشت کھانے کیلئے مختص نہیں ہے۔ جانوروں سے محبت کریں، انہیں زندہ رہنے دیں۔

اسکے بعد غریدہ فاروقی پر تنقید ہوئی، سوشل میڈیا صارفین نے غریدہ فاروقی کو خوب آڑے ہاتھوں لیا، اسکے خلاف ٹرینڈز چلادئیے۔ اس پر غریدہ فاروقی نے وضاحتیں دیں ، کبھی کہا کہ مجھ پر پر سیکولر، غیر ملکی فنڈڈ، بھارتی ایجنٹ کا لیبل لگایا گیا، مجھے گالیاں دی گئیں ، کبھی دعویٰ کیا کہ مجھے ہراساں کیا گیا اور قتل کی دھمکیاں دی گئیں میں نے تو آپ جانوروں کے حقوق کی بات کی تھی اور اپنی رائے دی تھی۔

کبھی کہا کہ ہم ایک پاگل اور خطرناک قوم بن چکے ہیں تو کبھی عورت کارڈز اور لبرلز کا سہارالیا ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عید پر اچانک قربانی کے خلاف پاکستان کے لبرل طبقے کے ٹویٹس کی وجہ کیا ہے؟ عید سے ایک روز پہلے بھارت سے ایک ٹرینڈ #BakraLivesMatter یعنی بکرے کی زندگی کی بھی اہمیت ہے چلا، یہ ٹرینڈ نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی ٹاپ پر تھا اور اس ٹرینڈ میں پاکستانیوں نے بھی حصہ لیا۔

یہ ٹرینڈ ایک جانوروں کے حقوق کی عالمی تنظیم “پیٹا” کی بھارت میں ایک شاخ “پیٹاانڈیا” کی جانب سے شروع کیا گیا۔ جانوروں کے حقوق کی یہ تنظیم دنیا بھر میں جانوروں کے حقوق کی بات کرتی ہےاور مختلف ممالک میں فنڈنگ بھی کرتی ہے۔

اسکے بعد اگلے روز یعنی بکر عید پر غریدہ فاروقی اور اسکے ہم خیالوں کے ٹویٹ سامنے آئے۔ جو لوگ یہ ٹویٹ کررہے تھے شاید وہ بھی جانور کے گوشت کے بغیر نہ رہ سکیں، یہ لوگ بھی جانوروں کے گوشت سے بنے بیف برگر، پیزا، کباب وغیرہ کھاتے ہوں گے۔

ایک اندازے کے مطابق کے ایف سی ، میکڈونلڈ، برگرکنگ ہر سال اربوں جانور ذبح کرتا ہے جبکہ بھارت جہاں سے قربانی کے خلاف ٹرینڈ چلا،وہ گوشت ایکسپورٹ کرنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، ٹاپ ٹین ممالک میں مہذب ممالک امریکہ، آسٹریلیا، ارجنٹائن شامل ہی جو ہرسال ٹنوں کے حساب سے گوشت باہر بھیج کر زرمبادلہ کماتے ہیں۔

لیکن ہمارا ایشو پاکستان ہے، غریدہ فاروقی جو ایک سینئر صحافی ہیں گزشتہ 20 سال سے مختلف چینلز میں کام کررہی ہیں، غریدہ فاروقی کو جانوروں کے حقوق کی تو فکر ہے لیکن وہ یہ بھول گئیں کہ اس نے بھی ایک انسان کے حقوق کی پامالی کچھ سال پہلے کی تھی بلکہ اس واقعے کو بربریت کہا جائے تو بہتر ہے جب اس نے اپنی کم سن نوکرانی کو حبس بے جا میں رکھا۔

کم سن ملازمہ پر تشدد کیا، غریدہ فاروقی کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی تھی جس میں وہ کم سن نوکرانی کے والدین کو گالیاں دے رہی تھی اور اسکی رہائی کے بدلے 40 ہزار روپے تاوان مانگ رہی تھیں۔بعدازاں پولیس نے مداخلت کی اور نوکرانی کو بازیاب کروایا ، پولیس غریدہ فاروقی کے خلاف کاروائی نہ کرسکی کیونکہ اسکے پہنچ وزیراعلیٰ پنجاب تک تھی اسلئے اس کیس سے بچ نکلی۔

اس واقعے کے بعد ایکسپریس نیوز نے غریدہ فاروقی کو چینل سے نکال دیا۔ غریدہ فاروقی پر یہ الزام بھی لگا کہ اس نے نہ صرف ملازمہ پر تشد د کیا بلکہ اسے بھوکا پیاسا بھی رکھا جب ملازمہ کے والدین بچی کو لینے آئے تو انہیں دھکے دیکر نکلوادیا۔

ایک کمسن ملازمہ کے حقوق پامال کرنیوالی غریدہ کس منہ سے جانوروں کی حقوق کی بات کررہی ہیں؟ انہیں سنت ابراہیمی سے اتنی تکلیف کیوں ہے؟ اگر غریدہ فاروقی کو جانوروں سے اتنی محبت ہے تو کیا وہ جانوروں کے گوشت سے بنے کباب، باربی کیو، برگر، پیزا وغیرہ کھانا چھوڑدیں گی؟ غریدہ فاروقی کو نہاری بہت پسند ہے، ظاہر ہے کہ نہاری درخت پر تو اگتی نہیں، جانور ذبح کریں تو اسکے گوشت سے بنتی ہے، کیا غریدہ فاروقی نہاری کھانا چھوڑدیں گی؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ قربانی نہ کریں، اسکے پیسے سے کسی غریب کی مدد کردیں، کسی غریب کی بیٹی کی شادی کردیں تو ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنا ڈیڑھ لاکھ کا آئی فون بیچ کر یا مہنگی گاڑی بیچ کر کسی غریب کی مدد کردیں، غریدہ فاروقی کسی بھی چینل پر جاتی ہیں تو لاکھوں میں تنخواہ لیتی ہوں گی، یہ تنخواہ 10 لاکھ سے زیادہ ہی ہوگی تو کیا اس تنخواہ میں سے 50 ہزار یا ایک لاکھ روپیہ سے کسی غریب کی مدد کرنا پسند کریں گی؟

غریدہ فاروقی اور اسکے ہم خیالوں کو کیا پتہ کہ عیدالاضحیٰ صرف قربانی اور سنت ابراہیمی کی ادائیگی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک بڑا معاشی سرکل چلاتی ہے، جو غریب سارا سال جانور پال کر فروخت کرتا ہے اسے منہ مانگے دام ملتے ہیں، جو بکرا عام دنوں میں 25 سے 30 ہزار کا اسکا فروخت ہوتا ہے، عید کے موقع پر 40 سے 50 ہزار میں فروخت ہوتا ہے۔

ہر سال لاکھوں بکرے، گائے، بیل، بھینسے، اونٹ، دنبے اور دیگر جانور فروخت ہوتے ہیں، اس ایک تہوار میں 500 ارب سے زائد کا کاروبار ہوتا ہے نہ صرف بیوپاری پیسہ کماتے ہیں بلکہ قصائی ایک جانور کا ہزاروں روپیہ وصول کرتے ہیں، مدارس والے قربانی کی کھالیں بیچ کر اس سے اپنے طلباء کی کفالت کرتے ہیں، ی رقم طلباء کیلئے نئے فرنیچر، کتابیں، اسلامی مواد اور دیگر جگہ پر خرچ کرتے ہیں۔ فلاحی ادارے ، ہسپتال ان کھالوں سے غریب کا مفت علاج کرتے ہیں یا غریب کو مفت تعلیم دیتے ہیں۔

یہ کھالیں لیدر انڈسٹری، سپورٹس انڈسٹری، کاسمیٹکس انڈسٹری، گارمنٹس انڈسٹری میں استعمال ہوتی ہے۔ صرف یہی نہیں عید قرباں کی وجہ سے قیمہ ، سری پائے بنانیوالے عام مزدور کو بھی پیسہ ملتا ہے۔ٹرانسپورٹر یا رکشہ ڈرائیور کو بھی فائدہ ملتا ہے جو جانور گھر تک یا منڈی تک پہنچاتے ہیں۔ ایک غریب جو سارا سال گوشت کو ترستا ہے اسے اس دن صحت مند گوشت دستیاب ہوتا ہے۔ چارہ بیچنے والوں، پرچون فروشوں کو اس تہوار سے فائدہ پہنچتا ہے۔ پیسے کی گردش ہوتی ہے جس سے آخر میں فائدہ ملک کو پہنچتا ہے۔

قربانی اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے، اگر آپکے پاس قربانی کی استطاعت ہے تو قربانی کریں، استطاعت نہیں تو قربانی نہ کریں۔ عید قرباں پر قربانی خود ایک غریب کی مدد ہے۔ غریب آدمی کا روزگار ان دنوں میں عام دنوں سے زیادہ چلتاہے۔ غریب کو دیا گیا گوشت اللہ کی راہ میں دیا گیا ہے، قربانی کی کھال سے مدارس کے بچوں کی تعلیم، غریب آدمی کا علاج، غریب بچے کی سکول میں تعلیم بھی غریب کی خدمت ہے ۔ غریب کا بچہ ہی مدارس میں پڑھتا ہے، غریب ہی چیرٹی ہسپتال میں علاج کرواتا ہے۔

گزارش بس اتنی سی ہے کہ ربانی اسلامی شعائر و فرائض میں سے ہے ہر جگہ فلاسفی نہیں جھاڑنی چاہیے۔ اگر آپ کے پاس قربانی کی استطاعت ہے تو قربانی کریں، نہیں کرسکتے تو نہ کریں۔ کسی غریب کی مدد کرنی ہے تو اپنا مہنگا آئی فون بیچ کر، گاڑی بیچ کر یا اپنی لاکھوں کی تنخواہ سے مدد کریں، اگر مدد نہیں کرنی تو خاموش رہیں ہمیں لیکچر مت دیں۔

Source: Siasat.PK

شئیر کریں

Leave a Comment