ایئرفورس تباہ حال اور ہتھیار ناپید ہیں، امریکہ فوری مدد کرے: افغانستان

افغانستان میں ارکان پارلیمان نے طالبان کے بڑھتے حملوں کے دوران ملک کی ایئرفورس کی خراب حالت سے خبردار کیا ہے اور امریکہ سے کہا ہے کہ مکمل انخلا سے قبل اس حوالے سے مدد کی جائے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی کانگریس سے ورچول میٹنگ کے دوران افغان پارلیمنٹ کے ارکان کے وفد نے اپیل کی کہ طیاروں کی مرمت اور سامان کی فراہمی کے حوالے سے فوری مدد کی جائے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے اگلے ماہ کے دوران افغانستان سے اپنی افواج کے مکمل انخلا کا اعلان کر رکھا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق امریکی صدر نے جمعے کو اپنے افغان ہم منصب اشرف غنی سے ٹیلیفونک رابطے میں بھی اس حوالے سے بات کی اور کابل کی فوجی مدد جاری رکھنا کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی کانگریس میں اس وقت اگلے سال کے بجٹ پر غور جاری ہے جس میں افغانستان کے لیے فوجی امداد بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

افغانستان کے رکن پارلیمان حاجی اجمل رحمانی نے امریکی کانگریس کو ورچول اجلاس کے دوران بتایا کہ طالبان کے حملوں کے بعد ’سکیورٹی کی صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔‘

اجمل رحمانی نے بتایا کہ ایئرفورس کے 150جہازوں میں سے ایک تہائی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغان ایئرفورس کو لیزر گائیڈڈ ہتھیار بھی نہیں دیے گئے کیونکہ نیٹو اتحاد اور امریکی افواج ہتھیاروں کا 90 فیصد تک ذخیرہ اپنے پاس رکھتیں اور جلد بازی میں انخلا کے دوران یہ مقامی فوج کو حوالے نہیں کیا گیا۔

افغان رکن پارلیمان کے مطابق لیزر گائیڈڈ ہتھیاروں کی مدد سے ہدف کو نشانہ بنانا آسان ہوتا ہے اور اس سے عام شہری آبادی کی ہلاکتوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اجمل رحمانی نے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی خبریں دینے والے صحافیوں کی ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ’کانگریس کا ردعمل یہ تھا کہ اس سب پر وقت لگے گا کیونکہ وہ اس کے لیے آرڈر کریں گے اور پھر ان کے بنانے اور افغانستان پہنچانے کے لیے کافی وقت درکار ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’وہ بتا رہے تھے کہ ان ہتھیاروں افغانستان پہنچنے پر لگ بھگ ایک سال کا وقت لگے گا۔ یہ اس وقت بہت زیادہ ضرورت کی چیز ہے۔‘

افغانستان کی پارلیمان کی ڈیفنس کمیٹی کے چیئرمین میر حیدر افضلی نے بتایا کہ ایئرفورس کے طیارے مرمت اور اضافی پرزے نہ ہونے کی وجہ سے گراؤنڈ ہیں اور کورونا کی وبا کے باعث امریکی ٹیکنیشنز پہلے ہی ملک چھوڑ کر جا چکے تھے جبکہ طیاروں کی عمر بھی زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایئرفورس کے طیارے روزانہ 70 سے 80 پروازیں کرتے ہیں اور یہ صرف طالبان پر حملوں کے لیے نہیں بلکہ دور دراز علاقوں میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں جو زمینی رابطے کٹنے کے بعد ضروری ہیں۔

دوسری جانب افغانستان سے فوجی انخلا کے دوران امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اگلے ہفتے انڈیا پہنچ رہے ہیں جہاں وہ نئی دہلی میں افغان حکومت کی مدد جاری رکھنے کے حوالے سے بات چیت کریں گے۔

خیال رہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے دوران افغانستان میں طالبان کے بڑھتے حملوں نے انڈین حکومت کو پریشان کر رکھا ہے۔

شئیر کریں

Leave a Comment